شوقِ فراواں

جس دِل میں یاد سیّدِؐ عالَم نے گھر کیا

درد و غم و الَم نے وہاں سے سفر کیا

ممکِن نہیں غیرِ نبیؐ معرفتِ حق

بسکہ بیاں طویل تھا مُختَصَر کیا

ہوتا اُسی قدر ہے وہ مشکول⚠️ ذات ہو

جس پر نبیؐ کے شوق نے جتنا اثر کیا

اللہ کے حبیبؐ کے در سے جو پھیر گیا

قِسِمت کی گردشوں نے اُسے در بدر کیا

طاقت سے بڑھ کے دور کے طائر جو نکل گیا

تندی باد نے اُسے بے بال و پر کیا

پروانہ وار جاں ہے فِدا اُن کے نُور پر

یادِ نبیؐ کو وقف یہ خون جگر کیا

ساجدؔ رہی نہ فکر نہ گردِ و پیش مجھے

ان کے خِیال نے مجھے یوں بے خبر کیا