شوقِ فراواں
1

فیضانِ یہ حضورؐ کی بارگاہ کا

پڑھتا ہے دِل مُدام سبق لا الہ کا

2

کوئی بھی ناامید نہیں اُن کے لُطف سے

چرچا ہے عامِ اُن کی ردائے سیاہ کا

3

حق تک پہنچنا اُن کے لیے سہل ہو گیا

جس کو بھی مل گیا پتا آقاؐ کی راہ کا

4

دیتا ہے وہ پناہ سلاطین دَہر کو

پرودہ ہے جو آپؐ کے لُطفِ نِگاہ کا

5

حاضِر در رسُولؐ پر اِک بار جو ہوا

اندیشہ کیا رہا اُسے بار گناہ کا

6

حق سے ہمیں نصیب ہے دولتِ درود کی

احساں ہم نے لیں نہ کسی بادشاہ کا

7

دِن رات میرے دِل پہ ہیں سرشاریاں مُحیط

ساؔجِد غلام میں بھی ہوں عالَمِ پناہ کا