شوقِ فراواں

فیضانِ یہ حضورؐ کی بارگاہ کا

پڑھتا ہے دِل مُدام سبق لا الہ کا

کوئی بھی ناامید نہیں اُن کے لُطف سے

چرچا ہے عامِ اُن کی ردائے سیاہ کا

حق تک پہنچنا اُن کے لیے سہل ہو گیا

جس کو بھی مل گیا پتا آقاؐ کی راہ کا

دیتا ہے وہ پناہ سلاطین دَہر کو

پرودہ ہے جو آپؐ کے لُطفِ نِگاہ کا

حاضِر در رسُولؐ پر اِک بار جو ہوا

اندیشہ کیا رہا اُسے بار گناہ کا

حق سے ہمیں نصیب ہے دولتِ درود کی

احساں ہم نے لیں نہ کسی بادشاہ کا

دِن رات میرے دِل پہ ہیں سرشاریاں مُحیط

ساجدؔ غلام میں بھی ہوں عالَمِ پناہ کا