شوقِ فراواں
1

ایسا دِل میں کرب گُھل نہ سکا رو نہ سکا

دامانِ دِل کے داغ نہ آنسوؤں سے دھو نہ سکا

2

ایسی گھڑی ملی ہو زیارت کی یا نبیؐ!

ارمان ہو دور دِل سے مِرے پاؤں⚠️ کا

3

چھونا یہ اپنے آپ کا پاناِ خُدا ہے

صد حیف عمر ساری جو خود کو نہ جھو⚠️ سکا

4

مانگا جو میں نے اُن کے توسل سے مل گیا

کیسے کہوں جو مانگا وہ حاصل نہ ہو سکا

5

غفلت کی نیند سویا رہا تمام عمر

اُن کے کرم سے میرا مُقدّر نہ سُو سکا

6

تَسکینِ جاں نبیؐ کے شاہِ رُسُلؐ کی یاد

مجھ کو نہ خار غم کوئی وڈن⚠️ چبھو سکا

7

ساؔجِد وہ فرد کیا ہے جو پڑھتا نہیں درود

دِل میں جو آپنے⚠️ نجؑ کی خُوشبو کا بو سکا