شوقِ فراواں
1

ذِکرِ حق رُخِ روشن وہ بتلا گیا

میرے بیتے تارہ⚠️ کو چوکا⚠️ گیا

2

ٹھوبی⚠️ حسنِ نبیؐ ہے بے مِثال

حاسدوں کے دِل کو غم یہ کھا گیا

3

سنجِ⚠️ جو پوشیدہ تھا صلیٰؑ علیؓ

اُن کے لُطف خاص سے دِل پا گیا

4

چاند نے دیکھا جو روئے حق نِشاں

وہ ہمیشہ کے لیے شرما گیا

5

جیتے بھی آسرار تھے عِرفان کے

ایک اُنی⚠️ آ کے سب سمجھا گیا

6

اُن کا اِک حرفِ تسلی مرحبا

ساغَرِ دِل کو مِرے چھلکا گیا

7

ہے دروودِ پاک ساؔجِد دِل کا چین

نعت سے دِل اور ہی لہرا گیا