شوقِ فراواں

ذِکرِ حق رُخِ روشن وہ بتلا گیا

میرے بیتے تارہ⚠️ کو چوکا⚠️ گیا

ٹھوبی⚠️ حسنِ نبیؐ ہے بے مِثال

حاسدوں کے دِل کو غم یہ کھا گیا

سنجِ⚠️ جو پوشیدہ تھا صلیٰؑ علیؑ

اُن کے لُطف خاص سے دِل پا گیا

چاند نے دیکھا جو روئے حق نِشاں

وہ ہمیشہ کے لیے شرما گیا

جیتے بھی آسرار تھے عِرفان کے

ایک اُنی⚠️ آ کے سب سمجھا گیا

اُن کا اِک حرفِ تسلی مرحبا

ساغَرِ دِل کو مِرے چھلکا گیا

ہے دروودِ پاک ساجدؔ دِل کا چین

نعت سے دِل اور ہی لہرا گیا