شوقِ فراواں
1

حق کے نبیؐ کو چھوڑ کر جو زر میں کھو گیا

اپنا سفینہ ہاتھ سے اپنے ڈبو گیا

2

اللہ جو ساتا نہیں کائنات میں

واللہ مومنوں کے دِلوں میں سمو گیا

3

ابن ابھی⚠️ بیٹھتا ہے اُن کی بزم میں

وہ جاگتا تھا بیچت⚠️ مگر اُس کا سُو گیا

4

دُنیا کو آخرت کی نہ کچھی⚠️ ہے شک

کانے گا جو وہی کوئی پہلے بو گیا

5

شاہِ رُسُلؐ سے عہدِ وفا رہا جو کر کے

تھا زِندہ لاشؑ⚠️ جاں کو اپنی وہ رو گیا

6

جاہل ہے مستِ ساغَرِ⚠️ مست میں نِگاہ اِک

علامہ جہاں بُہوا ناخوانداِ ہو گیا

7

لِپٹا رہا نبیؐ کے جو درِ سے بعد نِیاز

آزادِ دو جہاں سے ساؔجِد ہو گیا