شوقِ فراواں

حق کے نبیؐ کو چھوڑ کر جو زر میں کھو گیا

اپنا سفینہ ہاتھ سے اپنے ڈبو گیا

اللہ جو ساتا نہیں کائنات میں

واللہ مومنوں کے دِلوں میں سمو گیا

ابن ابھی⚠️ بیٹھتا ہے اُن کی بزم میں

وہ جاگتا تھا بیچت⚠️ مگر اُس کا سُو گیا

دُنیا کو آخرت کی نہ کچھی⚠️ ہے شک

کانے گا جو وہی کوئی پہلے بو گیا

شاہِ رُسُلؐ سے عہدِ وفا رہا جو کر کے

تھا زِندہ لاشؑ⚠️ جاں کو اپنی وہ رو گیا

جاہل ہے مستِ ساغَرِ⚠️ مست میں نِگاہ اِک

علامہ جہاں بُہوا ناخوانداِ ہو گیا

لِپٹا رہا نبیؐ کے جو درِ سے بعد نِیاز

آزادِ دو جہاں سے ساجدؔ ہو گیا