شوقِ فراواں
1

یا نبیؐ! میرا عَدُوّ دِل کی تواں لینے لگا

دوسروں کے زہر سے وہ مِری جاں لینے لگا

2

جس نے شیرینی چکھی ہے شاہِ دیں کے نام کی

اب وہ نام غیر ہونٹوں پر کہاں لینے لگا

3

دور تک خوشبوئے گُل اللہ کے محبوبؐ کی

فیضِ دیں میں اُن سے ہر اِک پیر و جواں لینے لگا

4

برزخِ اَلَٰی⚠️ سے جب دِل کی شناسائی ہوئی

سانس میں دِل اور حق کے درمیاں لینے لگا

5

ذاتِ یزداں تک رسائی کی کوئی صورت نہ تھی

آپؐ سے مشتاق حقؐ⚠️ کا نِشاں لینے لگا

6

تھا جو ابجد ناشناس اُس پر ہوئی ایسی نظر

پہلوئے دِل میں وہی ہفت آسماں لینے لگا

7

باب اُن کے لُطف کا ساؔجِد کُھلا ہے رات دِن

ہر کوئی اُن کی پناہ آستاں لینے لگا