شوقِ فراواں

یا نبیؐ! میرا عَدُوّ دِل کی تواں لینے لگا

دوسروں کے زہر سے وہ مِری جاں لینے لگا

جس نے شیرینی چکھی ہے شاہِ دیں کے نام کی

اب وہ نام غیر ہونٹوں پر کہاں لینے لگا

دور تک خوشبوئے گُل اللہ کے محبوبؐ کی

فیضِ دیں میں اُن سے ہر اِک پیر و جواں لینے لگا

برزخِ اَلَٰی⚠️ سے جب دِل کی شناسائی ہوئی

سانس میں دِل اور حق کے درمیاں لینے لگا

ذاتِ یزداں تک رسائی کی کوئی صورت نہ تھی

آپؐ سے مشتاق حقؐ⚠️ کا نِشاں لینے لگا

تھا جو ابجد ناشناس اُس پر ہوئی ایسی نظر

پہلوئے دِل میں وہی ہفت آسماں لینے لگا

باب اُن کے لُطف کا ساجدؔ کُھلا ہے رات دِن

ہر کوئی اُن کی پناہ آستاں لینے لگا