شوقِ فراواں
1

پھرتا ہوں میں مدینے کی منزِل میں لوٹا

خوشیوں کا ہے ہجوم مِرے دِل میں لوٹا

2

ہوتے ہیں جب بیانِ محاسنِ رسُولؐ کے

خُوش بخت ہے سرُور کی محفِل میں لوٹا

3

ہوتیں نصیب ساعتیں مَستی و کیف کی

میں کاش پاتا بندہ کامِل میں لوٹا

4

ملتا خُدا سے اِذنِ حضوریؐ اگر مجھے

دِل میرا اُنؐ کے در کے مقابل میں لوٹا

5

جو خُوش چین ہے خرمنِ لُطفِ رسُولؐ کا

وہ نُور کے بے بہا حاصل میں لوٹا

6

کرتا جو اختیار تقورؐ⚠️ حضورؐ کا

وہ جلوہ گاہِ حُسنِ تشکیل میں لوٹا

7

ساؔجِد اگر درود وہ پڑھتا شبانہ روز

ارماں نہ وَصل کا دِل بُھل میں لوٹا