شوقِ فراواں

پھرتا ہوں میں مدینے کی منزِل میں لوٹا

خوشیوں کا ہے ہجوم مِرے دِل میں لوٹا

ہوتے ہیں جب بیانِ محاسنِ رسُولؐ کے

خُوش بخت ہے سرُور کی محفِل میں لوٹا

ہوتیں نصیب ساعتیں مَستی و کیف کی

میں کاش پاتا بندہ کامِل میں لوٹا

ملتا خُدا سے اذنِ حضوریؐ اگر مجھے

دِل میرا اُنؐ کے در کے مقابل میں لوٹا

جو خُوش چین ہے خرمنِ لُطفِ رسُولؐ کا

وہ نُور کے بے بہا حاصل میں لوٹا

کرتا جو اختیار تقورؐ⚠️ حضورؐ کا

وہ جلوہ گاہِ حُسنِ تشکیل میں لوٹا

ساجدؔ اگر درود وہ پڑھتا شبانہ روز

ارماں نہ وَصل کا دِل بُھل میں لوٹا