شوقِ فراواں

ملا فیض مسیحائی انہیؐ سے ابنِ مریم کو

شِفا دیں سے شِفا ہو گی ہری بھی جاں پُرغم کو

خُدا نے خُلد دی کوثر⚠️ دیا علمِ لدنی بھی

خزانے بکریاں بخشے گئے شاہِ مکرم کو

سبھی آلائشیں⚠️ ذہلقی⚠️ ہیں اس سے داماں دِل کی

شِفا پائے کرے جو نوشِ جامِ آبِ زمزم کو

اگر نبیوں کے آقاؐ کی مجھے ہو خاکِ ذر⚠️ حاصل

کروں تقسیم یاروں میں اس اِکسیرِ اعظم کو

قسمِ اللہ کی محبوبِ حق ہی کی بدولت ہے

شرفِ اللہ نے بخشا⚠️ جو اولادِ آدم کو

شیؐ والا خُدا کی نعمتیں تقسیم کرتے ہیں

نبیؐ کے ہاتھ سے نعت ملی ہے دِلوں عالَمِ کو

حسین ابن علی ساجدؔ مِرے ایمان کی جاں ہیں

خُدا رکھتے سلامت آپؐ کے پُرنور پرچم کو