شوقِ فراواں
1

کوئی بھی میرا آواز نہیں ہے تو نہ ہو

ساتھ کچھ آوازیں ساز نہیں ہے تو نہ ہو

2

آپؐ کے بام محلّے میں اعجازِ نبوت کا⚠️

جس کو تسلیم یہ اعجاز نہیں ہے تو نہ ہو

3

میں تو رہتا ہوں سدا اُن کے کرم کا طالب

بادُر میری تگ و تاز نہیں ہے تو نہ ہو

4

اُن کی رحمت میرے کام آتی ہے پہلے بھی مُدام

دِل مِرا حوصلہ پرداز نہیں ہے تو نہ ہو

5

ہم تَصوُّر میں پہنچ جائیں کے اُن کے در پر

کسی طیارے کی پرواز نہیں ہے تو نہ ہو

6

دردِ دِل کے میں سناؤں گا دِل میں کی فریاد

خوب اگر میری یہ آواز نہیں ہے تو نہ ہو

7

یادِ اُن کی ہے سہارا میرے دِل کا ساؔجِد

کوئی مُونِس کوئی دمساز نہیں ہے تو نہ ہو