شوقِ فراواں

اللہ المدؐ نَوازا ہے نبیؐ نے مجھ کو

میرے آقاؐ نے بلایا ہے مدینے مجھ کو

ورنہ وحشی کو کہاں ہوش تھا نیک و بد کا

آپؐ نے بخشے ہیں جینے کے قرینے مجھ کو

آپؐ کی ایک تَوَجُّہ نے مجھے بخشا زِندہ کیا

جِسمِ بے جاں تھا کب دیکھا کسی نے مجھ کو

پیتا ہوں میں شیرِ دیں کو صلوٰۃ اور سلام

جب تسکیں دیتا ہے غم دیر کا جینے مجھ کو

کیا ہی اصحابؓ تھے وہ عِشقِ نبیؐ کے پَیکر

یاد آتے ہیں یہ خاکِ خزینے مجھ کو

ہیں رجب تا رمضاں⚠️ زہد و ریاضت کے امیں

بھولتے کب ہیں عبادت کے مہینے مجھ کو

شُکرِ حقِ نعت ساجدؔ مجھے تسکیں بخشی

مار ہی ڈالا تھا شوریدہ سری نے مجھ کو