شوقِ فراواں
1

یاد اب تک نہ ہوئی عِشق کی ابجد مجھ کو

کیا سمجھے آئیں گے معنیِ محمدؐؐؐؐ مجھ کو

2

سیم⚠️ احمدؐ سے جو جھماکا تو ذاتِ احَد

قبلۂ جاں ہے شیؐ دیں کا سی قد⚠️ مکرم کو

3

اپنے داماں میں قِیامت کو یہ ڈھانپے گی ضرور

سرسے تا ناخن پاِ رحمت بے حد مجھ کو

4

آپؐ کے بازوئے در سے میں لپٹ جاؤں گا

مل گئی راہ اگر جانِبِ مسند مجھ کو

5

تھمی عَیاں اُن کی جبینوں سے تتھلی اَزَل

بے مِثال آئے نظرِ اُن کے اب و جد مجھ کو

6

دِل یہ چاہتا ہے میں بسا لوں اُسے اپنی جاں میں

یوں حسین لگتا ہے سرکارِ کا گُنبدِ خضرا⚠️ مجھ کو

7

آپؐ کے سوچے میں ہو بستر خاکی ساؔجِد

میرے اللہ! ملے گوہرِ مقصد مجھ کو