شوقِ فراواں

یاد اب تک نہ ہوئی عِشق کی ابجد مجھ کو

کیا سمجھے آئیں گے معنیِ محمدؐؐ مجھ کو

سیم⚠️ احمدؐ سے جو جھماکا تو ذاتِ احَد

قبلۂ جاں ہے شیؐ دیں کا سی قد⚠️ مکرم کو

اپنے داماں میں قِیامت کو یہ ڈھانپے گی ضرور

سرسے تا ناخن پاِ رحمت بے حد مجھ کو

آپؐ کے بازوئے در سے میں لپٹ جاؤں گا

مل گئی راہ اگر جانِبِ مسند مجھ کو

تھمی عَیاں اُن کی جبینوں سے تتھلی اَزَل

بے مِثال آئے نظرِ اُن کے اب و جد مجھ کو

دِل یہ چاہتا ہے میں بسا لوں اُسے اپنی جاں میں

یوں حسین لگتا ہے سرکارِ کا گُنبدِ خضرا⚠️ مجھ کو

آپؐ کے سوچے میں ہو بستر خاکی ساجدؔ

میرے اللہ! ملے گوہرِ مقصد مجھ کو