شوقِ فراواں
1

خور⚠️ و غلاں پھول لائیں خُوشی⚠️ تمثال میں

اور قدمی دِل بچھائیں اُن کے استقبال میں

2

یاد میں مِعراج کی ہوتی ہیں خُوشیاں جا بجا

محفلیں جمتی ہیں کیا گردشِ یکسال میں

3

ذہ⚠️ کرے نقشِ کف پائے نئی کی پِیرَوی

کافنی⚠️ ہو زِندگی جس کو شِگُفتہ حال میں

4

بن گیا جس کے تَصَوُّر میں رُخِ سُلطانِ دیں

وہ کبھی آتا نہیں دشمن کے رنگیں جال میں

5

عاشقانِ مصطفٰےؐ کی روح میں ہے روشنی

ظُلمتیں ہیں اہلِ دُنیا کے دِل پامال میں

6

ہے کہاں حق آشنا جس سے ہو دِل کی دوستی

کیے گزرے اس اِخلاص دِل کے کال⚠️ میں

7

روزِ مَحشَر اُس کو ساؔجِد کوئی اندیشہ نہیں

ہے دروودِ پاک جس کے دفترِ اَعمال میں