شوقِ فراواں

خور⚠️ و غلاں پھول لائیں خُوشی⚠️ تمثال میں

اور قدمی دِل بچھائیں اُن کے استقبال میں

یاد میں مِعراج کی ہوتی ہیں خُوشیاں جا بجا

محفلیں جمتی ہیں کیا گردشِ یکسال میں

ذہ⚠️ کرے نقشِ کف پائے نئی کی پِیرَوی

کافنی⚠️ ہو زِندگی جس کو شِگُفتہ حال میں

بن گیا جس کے تَصَوُّر میں رُخِ سُلطانِ دیں

وہ کبھی آتا نہیں دشمن کے رنگیں جال میں

عاشقانِ مصطفیٰؐ کی روح میں ہے روشنی

ظُلمتیں ہیں اہلِ دُنیا کے دِل پامال میں

ہے کہاں حق آشنا جس سے ہو دِل کی دوستی

کیے گزرے اس اِخلاص دِل کے کال⚠️ میں

روزِ مَحشَر اُس کو ساجدؔ کوئی اندیشہ نہیں

ہے دروودِ پاک جس کے دفترِ اَعمال میں