شوقِ فراواں

وسیلے سے نبیؐ کے اِلتجا ہے ربِ احسن کو

نہ ہرگِز کر کے شیطان نیچا میری گردن کو

نبیؐ کا نام لیوا ہوں نہیں ہے خوفِ دشمن کا

بچائے گا خُدا برق و بلا سے میرے خرمن کو

مِرا ایمان ہے سینے پر مِرے ہے ہاتھ رحمت کا

نظر آئے گی چاروں سِمت ظُلمت جِسم رہزن کو

خُدا سے مانگ طاقت جس میں ہو تائیدِ حق شامِل

بغیر اس کے ہے ابرہنا⚠️ عَبث شمشیرِ آہن کو

قِیامت کو تھمے میدان میں جب گمبھلی⚠️ ہو گی

میں تھماؤں گا جنابِ مصطفیٰؐ کے پاک داماں کو

نبیؐ کے سامنے ہوں روز روشن ہے جہاں سارا

چِراغِ ذات ہم کہتے ہیں اُن کے روئے روشن کو

یہ محبوبِ خُدا کا خاص ہے ساجدؔ مجھ پر

کہ مجھ نادار و بے کس سے بھی خوف آتا ہے دشمن کو