شوقِ فراواں
1

وسیلے سے نبیؐ کے اِلتجا ہے ربِ احسن کو

نہ ہرگِز کر کے شیطان نیچا میری گردن کو

2

نبیؐ کا نام لیوا ہوں نہیں ہے خوفِ دشمن کا

بچائے گا خُدا برق و بلا سے میرے خرمن کو

3

مِرا ایمان ہے سینے پر مِرے ہے ہاتھ رحمت کا

نظر آئے گی چاروں سِمت ظُلمت جِسم رہزن کو

4

خُدا سے مانگ طاقت جس میں ہو تائیدِ حق شامِل

بغیر اس کے ہے ابرہنا⚠️ عَبث شمشیرِ آہن کو

5

قِیامت کو تھمے میدان میں جب گمبھلی⚠️ ہو گی

میں تھماؤں گا جَنابِ مصطفٰےؐ کے پاک داماں کو

6

نبیؐ کے سامنے ہوں روز روشن ہے جہاں سارا

چِراغِ ذات ہم کہتے ہیں اُن کے روئے روشن کو

7

یہ محبوبِ خُدا کا خاص ہے ساؔجِد مجھ پر

کہ مجھ نادار و بے کس سے بھی خوف آتا ہے دشمن کو