شوقِ فراواں
1

جنّ ہر دم اُنس و قُدسی اُن کے ہیں دربار پر

ہوں تحیّات اُن کو⚠️ گنتِ⚠️ گُل خَلق کے سردار پر

2

جس کو دربانیِ نبی کے پاک در کی ہے نصیب

جیں⚠️ ملک حیران اُس کے طالعِ⚠️ بیدار پر

3

آپ جس تیزی سے پہنچے لامَکاں تک مرحبا

ہے فلَک شش در⚠️ نبی کی تیز رفتار پر

4

پاک تعلیمِ نبی ہیں زینتِ عرش بَریں

قُدسی و غِلماں فِدا ہیں آپ کے اَنوار پر

5

چاند اور سُورج کی کرنیں پیش کرتی ہیں سلام

چادرِ محبوبِ ربّانی کی اِک اِک تار پر

6

اُن کی رہ کے سنگریزوں میں ہے اتنی بالکل⚠️

اب نظر جمتی نہیں ہے گوہرِ شہوار پر

7

اے شہِ کون و مَکاں! ساؔجِد پریشاں حال ہے

ہو نِگاہِ لُطف اِس صیدِ⚠️ غم و آزار پر