← شوقِ فراواں
1
اگر رحمت ہے مَستی جاں کہاں غم ہے سہارے کا
بھنور کا کوئی اندیشہ نہ کچھ خدشہ کنارے کا
2
جَنابِ سیّدِ لولاک مونِس ہے سہارے کا
وہی ہے مشتاق وحسنِ دُنیا و غمِ مارے کا
3
نبیؐ کی راہ میں مرنا ہے گویا جاوِداں جینا
خُدا کی راہ میں لُٹنا نہیں سودا خسارے کا
4
نبیؐ کا جو حِصار لُطف میں رہتا ہے ہر ساعت
نہیں محتاج وہ ہرگِز عزیزوں کے سہارے کا
5
خُدا کے حکم سے منظور ہیں وہ شکرانی کا
نِظامِ اسباب کا ہے مُختَصَرِ اُنؐ کے اشارے کا
6
نبیؐ کا بولنا یا بیٹھنا اتنا خُدا سے ہے
وہ گر چاہیں اُس کے جہاں کے پیٹے بچھارے کا
7
شہرِ دیں نے جھنکھتے ہیں تاج و تاج و ساؔجِد مندیں
کھلا رہتا ہے روشن باب اُس عالی دوارے کا