← شوقِ فراواں
کب اُنہیں انباروں کے زر ویم انباروں کا
دم بھریں آپؐ کے جو حاشیہ برداروں کا
آپؐ کے دم سے زمینِ طَیَّبہ کی خُوشبو دیار
غیرتِ خُلد ہے حُسنِ آپؐ کے گلزاروں کا
آپؐ کے کوچے کی خاکِ کاشاک ہے اِکسیر حیات
سایہ ہے روحِ فِزا آپؐ کی دیواروں کا
سارے عالَم کے قیبوں کے وہ ہمدردِ کفیل
وہ سہارا ہیں جہاں سارے کے ناداروں کا
راہ جو آپؐ کی اِک بار گزرگاہ بنی
ہے بجوم آج بھی واں نُور فِشاں تاروں کا
داستانِ صبر و رضا کی ہے ہمیں آج بھی یاد
بھولے منظَر وہ کہاں شامِ بازاروں کا
جس گھڑی باب شفاعت کا نُکلے گا ساجدؔ
کام ہو جائے گا آساں گنہگاروں کا