شوقِ فراواں
1

کب اُنہیں انباروں کے زر ویم انباروں کا

دم بھریں آپؐ کے جو حاشیہ برداروں کا

2

آپؐ کے دم سے زمینِ طَیَّبہ کی خُوشبو دیار

غیرتِ خُلد ہے حُسنِ آپؐ کے گلزاروں کا

3

آپؐ کے کوچے کی خاکِ کاشاک ہے اِکسیر حیات

سایہ ہے روحِ فِزا آپؐ کی دیواروں کا

4

سارے عالَم کے قیبوں کے وہ ہمدردِ کفیل

وہ سہارا ہیں جہاں سارے کے ناداروں کا

5

راہ جو آپؐ کی اِک بار گزرگاہ بنی

ہے بجوم آج بھی واں نُور فِشاں تاروں کا

6

داستانِ صبر و رضا کی ہے ہمیں آج بھی یاد

بھولے منظَر وہ کہاں شامِ بازاروں کا

7

جس گھڑی باب شفاعت کا نُکلے گا ساؔجِد

کام ہو جائے گا آساں گنہگاروں کا