شوقِ فراواں
1

اُن کی چشمِ مِہرباں سے دِل ستارا ہو گیا

بحر میں گرداب و طوفان بھی کنارا ہو گیا

2

ہو گئی پہچان جس کو سیّدِ لولاک کی

رازِ اُس پر ذاتِ حق کا آشکارا ہو گیا

3

اب غمِ دوراں کی کوئی بات ہونٹوں پر نہیں

جب کہ محبوبِ خُدا مونِس ہمارا ہو گیا

4

شاہِ عالَم کے کرم سے مُشکلیں حل ہو گئیں

بند دروازوں کے کھُلنے کا اشارا ہو گیا

5

زِندگی میں اب نہیں کوئی سختی مجھے

اب وِلائے شاہ میں ہر غم گوارا ہو گیا

6

اِلتِفاتِ حق کا ہم سے شُکر کیسے ادا

اِک توجّہِ حق سے زخمِ جاں کا چارہ ہو گیا

7

روندوں میں رات دِن کہتے ہیں ساؔجِد آج کل

ہنگلِ نعتِ مصطفٰےؐ دِل کا سہارا ہو گیا