شوقِ فراواں
1

آخر مرضِ سے جِسمِ بشر مردِ ہو گیا

خُوش بختِ وہ تھا مدینہ کی جو گرد ہو گیا

2

جب سے خِیال اُس کا نصیب ہے

دِل کا یہ بے غنیمہ کھِل گُل ہو گیا⚠️

3

مُدّت سے جو مِرے لئے تھا جاں کا عذاب

کافور اُن کے لُطف سے وہ درد ہو گیا

4

یہ دِل برا زیارتِ حُسن و جمال کو

اِتنا پھرا کہ اب تو جہاں گردِ ہو گیا

5

اپنے جمال پر مدّ کامِل کو ناز تھا

دیکھا نبیؐ کا چہرہ تو مُنہ زرد ہو گیا

6

حضرت حسینؓ کی ولا جس دِل میں بس گئی

میدانِ کارزار کا وہ مردِ ہو گیا

7

ساؔجِد گئے گا ڈوب کر حیرت میں روز حشر

یکسر سفید کیسے یہ فردِ ہو گیا