← شوقِ فراواں
آخر مرضِ سے جِسمِ بشر مردِ ہو گیا
خُوش بختِ وہ تھا مدینہ کی جو گرد ہو گیا
جب سے خِیال اُس کا نصیب ہے
دِل کا یہ بے غنیمہ کھِل گُل ہو گیا⚠️
مُدّت سے جو مِرے لئے تھا جاں کا عذاب
کافور اُن کے لُطف سے وہ درد ہو گیا
یہ دِل برا زیارتِ حُسن و جمال کو
اِتنا پھرا کہ اب تو جہاں گردِ ہو گیا
اپنے جمال پر مدّ کامِل کو ناز تھا
دیکھا نبیؐ کا چہرہ تو مُنہ زرد ہو گیا
حضرت حسینؑ کی ولا جس دِل میں بس گئی
میدانِ کارزار کا وہ مردِ ہو گیا
ساجدؔ گئے گا ڈوب کر حیرت میں روز حشر
یکسر سفید کیسے یہ فردِ ہو گیا