← شوقِ فراواں
1
مُلتَفِت جب سے ادھر جانِ چاں ہو گیا
خاطِرِ بیمار کا اب حال اچھا ہو گیا
2
چشمِ جاں کو اب خُدا کی دید کا آساں ہو گئی
رُوئے زیائے نبیؐ سے حق سے حق ہویدا ہو گیا
3
زِندگی میں کامرانی بن گئی اس کی
عہد جس کا سرُورِ عالَم سے ایفا ہو گیا
4
کام بست و سہ برس میں آ گیا انجام تک
جا بجا توحید کا عالَم میں چرچا ہو گیا
5
دینِ کی آواز اُٹھی اس جہاں میں چار سُو
وحی حق کا کام فضل سے پورا ہو گیا
6
ظُلمتیں شِرک و نفاق و کُفر کی سب چھٹ گئیں
ہر طرف آفاق میں حق کا سورا⚠️ ہو گیا
7
ساؔجِد اصنِ و راستی دستورِ عالَم ہو گئے
گُل جہاں میں مصطفٰےؐ کا بول بالا ہو گیا