شوقِ فراواں

حضرتِ حسینؑ کے جو مریدوں میں مل گیا

وہ فیضِ مصطفیٰؐ سے سعیدوں میں مل گیا

عالی نصیب بریدوں میں مل گیا

خُوش بختِ بختِ کوئی زہر چیشدوں⚠️ میں مل گیا

سُلطانِ انبیاءؑ کا نَوازا تھا ہوا

شہیدِ کے وہ سینہ دریدوں میں مل گیا

خطرہ نہیں مسافِرِ راہِ رسُولؐ کو

راہی شِرک مارگزیدوں میں مل گیا

پچوما تھا میں نے آپؐ کا جو روزِ پاک دیر

روزِ طَرَبِ وہ سال کی عیدوں میں مل گیا

ناخرِ بُلند بختِ کا کیا گیا ہوا بیاں

آیا کچھ بجھا ہوا وہ شہیدوں میں مل گیا

ساجدؔ کبھی خُدا نہ دکھائے وہ بد سحر

خوانِ کرم سے کھا کے کے ندیدوں میں مل گیا