شوقِ فراواں
1

حق کا رسُولؐ آخری شاہِ رُسُل ہوا

آقا ہمارا دَہر میں آقائے کل ہوا

2

گردابِ غم میں پنچ گئی کشتی دِلِ حضورؐ

اِک چشمِ درد ناما مِرا ورنہ قل ہوا

3

جاتی ہے حق کو اُنؐ سے فقَط راہِ دور

خُوشبو سے چیتے فاصلے پہ برگ گُل ہوا

4

دینِ میں کوئی بھی غم نہیں اس کی راہ میں

خَلق اور حق کے درمیاں یہ دینِ یل ہوا

5

عظمت کے بامِ قصر سے وہ سر کے بل گرا

مبود جس کا راہِ کا چتّر بھٹیل⚠️ ہوا

6

اپنے مَقام کا رہ رہے ہم کو لحاظ خاص

وہ نُورِ ذات اپنا امیر مسل⚠️ ہوا

7

فکر و خِیال کا کریں ساؔجِد محاسبہ

اپنے دِل خاموش سے کیوں کر یہ دِل ہوا