شوقِ فراواں
1

روشن کریں حضورؐ ستارہ یہ تارا ہوا

پہلے پڑی ایسی دِل اپیسا⚠️ بچھا ہوا

2

جس نے وہ نام پاک نبیؐ کا بتھلا دیا

اُس کی نِگاہ میں ہے سویرا سجھا ہوا

3

بلکی سی اِک کرن مجھے کافی نہیں ہوئی کہ

ہر چند زِندگی کا ہے رستہ بجھا ہوا

4

تاریک اُس کی جاں ہے بے جالوء زیا بناء⚠️ ہے

جس کے دِلوں میں نُورِ نبیؐ کا نجھا ہوا

5

پلٹا کوئی تو روشنی ہی روشنی تھا ذو

اُن کے حضور کوئی آیا بھجا ہوا

6

ساؔجِد بیفیضِ لُطف ہو روشن ہِرا نصیب

اے کاش جل اُٹھے مِرے دِل کا نجھا ہوا