← شوقِ فراواں
1
اُن کے کرم سے چشمہ حیوان بہہ گیا
پتّھر سے آبِ زمزم و عِرفان بہہ گیا
2
میرے حضورؐ! آپؐ کی اِک چشمِ لُطف سے
حَسرتِ نکل گئی مِرا ارمان بہہ گیا
3
دِل پہ مُحیط کرب ڈُھمواں بن کے اُڑ گیا
آنکھوں میں میرے دردِ کا طوفان بہہ گیا
4
کس درجہ مجھ پہ مِہربان ہے رحمتِ تمام
دِل سے تمام وہم کا بیچان⚠️ بہہ گیا
5
کچھ اور ہو گا حالِ دِل ہم کو نصیب
پانی نبیؐ کے لُطف کا جب آں بہہ گیا
6
ساؔجِد اے نصیب ہوا ساحلِ مُراد
موجوں میں رحمتوں کی شنا خواں بہہ گیا