شوقِ فراواں
1

اُن کی خِدمت پاک کے بیاں احوال کیا

شُکرِ خُدا کا پرانا آپؐ نے دورِ وبال کیا

2

شاہِ دوراں جانِ دو عالَم جو آتے تھے

سجدہ کر کے کعبہ نے دِل سے شاہ کا استقبال کیا

3

تھا اُستادِ فرشتوں کا مرزود ہوا معتوب ہوا

حکمِ خُدا کے سامنے اُس نے کیوں کر استدلال کیا

4

سیم و طلا یاقوت و زمرد کام نہ آئے کچھ

یزداں کو جو بیکسر بھگلوا اور اکٹھا مال کیا

5

بدلی سر پر قلم کی کی چھپائی غیروں کی کو رہ اپنائی

دین میں کی بات نہ مانی تو بُرا یوں حال کیا

6

سیدھا رستہ خاص نبیؐ کا جس پہ ہے چلنا عافیت

نامِ نبیؐ نے دِل سے ہمارے رفعِ اضطلال کیا

7

میرے موٗس ساؔجِد مکرّم شاہِ عالَم وہ غم خَوار مِرے

مشکل میری سہل ہوئی ہے جب بھی اُن کا خِیال کیا