← نور و سرور
1
مِدحت سرا ہُوا جو میں اپنی ترنگ میں
چمکا خُوشی کا نُور مِرے انگ انگ میں
2
کچھ اور ہی فضا ہے دیارِ حبیبؐ کی
ڈُوبی ہر ایک شے ہے یہاں نُور و رنگ میں
3
باطِل کا بند اب کوئی باقی نہیں رہا
سیلاب ہے رواں میرے دِل کی امنگ میں
4
اصحاب کچھ تو حبِّ نبیؐ میں ہوئے شہید
کچھ کام آئے صِدق میں باطِل سے جنگ میں
5
یادِ نبیؐ کی مستیوں کو ظرف چاہیے
کتنا کچھ آخر آئے گا دامانِ تنگ میں
6
اعجاز ہے یہ شاہِؐ رُسُلؑ کی نِگاہ کا
آئینے کی جو روشنی آئی ہے سنگ میں
7
ساؔجِد عجیب چیز ہے ذوقِ سماع بھی
کرتی ہے رقص روح مِری بزمِ چنگ میں