نور و سرور
1

گُلشن گُلشن زمزمے اُن کے‘ صَحرا صَحرا اُن کی بات

محفِلِ محفِل اُن کی کہانی‘ دِل کی زُباں پر اُن کی بات

2

اُن کی جبیں کے جلووں سے روشن ہے چراغِ بزمِ حیات

سُورج کی کرنوں کی زُباں پراُن کا چرچا اُن کی بات

3

پھُوٹتی ہیں رنگین بہاریں اُن کی شِگُفتہ یادوں سے

مَہکی مَہکی اُن کی حِکایت صہباصہبا اُن کی بات

4

اُن کی رحمت کے سائے میں عالَم سارے پلتے ہیں

اُن کا اِشارہ خضرؑ سراپا ‘ ہے دمِ عیسیٰ اُن کی بات

5

اُن کے تصدق مُشکلیں حل ہوتی ہیں سنورتے ہیں سب کام

حشر کے روز بھی بن جاۓ گی اپنا سہارا اُن کی بات

6

اُن کے ذہن سے بول رہا ہے خالِق سارے عالَم کا

دین مکمل فعل ہے اُن کا سب سے بالا اُن کی بات

7

زِندگی گزرے اُن کی محبت کا دم بھرتے گن گاتے

ہو دمِ آخر ساؔجِد کے ہونٹوں پر جاری اُن کی بات