نور و سرور

گُلشن گُلشن زمزمے اُن کے صَحرا اُن کی بات

محفِلِ محفِل اُن کی کہانی، دِل کی زُباں پر اُن کی بات

اُن کی جبیں کے جلووں سے ہے روشن بزمِ حیات

سُورج کی کرنوں کی زُباں پر چرچا اُن کی بات

پھُوٹی ہیں رنگین بہاریں اُن کی شِگُفتہ یادوں سے

مَہکی مَہکی اُن کی حِکایت، صبحا اُن کی بات

اُن کی رحمت کے سائے میں عالَم سارے پلتے ہیں

اُن کا اِشارہ حضرتِ سراپاؐ ہے دمِ لیسیؐ اُن کی بات ⚠️

اُن کے تصدق مُشکلیں حل ہوتی ہیں سنورتے ہیں سب کام

حشر کے روز بھی اپنا سہارا اُن کی بات

اُن کے ذہن سے بول رہا ہے خالِق سارے عالَم کا

دینِ کامِل فعل ہے اُن کا سب سے بالا اُن کی بات

زِندگی گزرے اُن کی محبت کا دم بھرتے گن گاتے

ہو دمِ آخر ساجد کے ہونٹوں پر جاری اُن کی بات