جانِ جہاں

نو کا وہ برگِ فضلِ خُدا سے ہرا ہوا

جو دِل خُدا کے پاکِ نبی ﷺ پر فِدا ہوا

دولتِ سرُور کی ہے میسّر شبانہ روز

دِل میں اگر ہے اُن کا تَصوُّر بجا ہوا

تھا جو گَدا امیر ہوا اُن کے لُطف سے

جو مصطفیٰ ﷺ کا ہو گیا مردِ خُدا ہوا

ہم کو نہیں ہے راہزنوں کا ذرا بھی ڈر

صد شُکر، رَہبَر شہِ ارض و سما ہوا

اُس کو خُدا کی نعمتیں بجھتی⚠️ گئیں تمام

اعزاز جس کو عِشقِ نبی ﷺ کا عطا ہوا

کب ہم نے اُن کی پِیرَوی کی قول و فعل میں

کب ہم سے حق غلامیِ شاہ ﷺ کا ادا ہوا

اکثر درود جس کی ہے ساجدؔ زُباں پر

اُس پر ہے درِ رسُول ﷺ خُدا کا کھلا ہوا