نور و سرور

رستۂ حریمِ حُسن کا ہم کو دکھا دیا

اللہ کے حبیبؐ نے حق کا پتا دیا

سرکارؐ نے خزانۂ رحمت لُٹا دیا

ذرّے کو چاند چاند کو سُورج بنا دیا

ہر ایک نقشِ وہم و گُماں کا مٹا دیا

رُوئے نبیؐ نے جلوۂ یزداں دکھا دیا

اُن کی نظر سے سنگ بھی آئینہ ہو گیا

اُن کے قدم نے وَشت کو جنت بنا دیا

محتاج کو غنی کیا، مفلس کو بادشاہ

جس سِمت اپنا دستِ نَوازِش بڑھا دیا

جو رُوستم کے مارے ہوئے پھر سے جی اُٹھے

گم گردہ راہ کو رَہ حق پر لگا دیا

پُرسش جو مِرے حال کی ساجد نے کی کسی

میں نے نبیؐ کی نعت کا نغمۂ ثَنا دیا