← نور و سرور
رنگِ جمالِ حُسنِ چَمن، نُورِ ماہ ہو
مُلکِ جہاں کے آپؐ ہی تو بادشاہ ہو
اِس سِمت بھی تَوَجُّہِ فردہ ہے دِل مِرا
مجھ خستہ جاں پر بھی کرمِ نِگاہ ہو
اِحسان میں نہ لُوں گا کسی تاجدار کا
بس آپؐ کی نِگاہ اے عالَم پناہ ہو!
پُر نُور ہو سحرِ مِری، ہو شام پُر خمار
میری یہ جانِ آپؐ ہی کی جلوہ گاہ ہو
آلامِ روزگار کی پروا نہیں مجھے
اِس واسطے کہ آپؐ مِرے خیرخواہ ہو
میری زُباں پہ نامِ نبیؐ ہر گھڑی رہے
ہر سانس میرا حمدِ سرائے الہٰ ہو
مدت ہوئی ہے ساجد غمگیں ہے مُنتَظر
اِس کو بھی حکمِ حاضریِ بارگاہ ہو