نور و سرور
1

رنگِ جمال ‘ حُسنِ چَمن ‘ نُورِ ماہ ہو

مُلکِ جہاں کے آپؐ ہی تو بادشاہ ہو

2

اِس سِمت بھی تَوَجُّہ ‘ فسردہ ہے دِل مِرا

مجھ خستہ جان پر بھی کرم کی نِگاہ ہو

3

اِحسان میں نہ لُوں گا کسی تاجدار کا

بس آپؐ کی نِگاہ اے عالَم پناہ! ہو

4

پُر نُور ہو سحر مِری ‘ ہو شام پُر خمار

میری یہ جان آپؐ ہی کی جلوہ گاہ ہو

5

آلامِ روزگار کی پروا نہیں مجھے

اِس واسطے کہ آپؐ مِرے خیرخواہ ہو

6

میری زُباں پہ نامِ نبیؐ ہر گھڑی رہے

ہر سانس میرا حمدِ سرائے الہٰ ہو

7

مدت ہوئی ہے ساؔجِدِ غمگیں ہے مُنتَظر

اِس کو بھی حکمِ حاضریٔ بارگاہ ہو