ذوقِ جمال
1

دِل پر غم سے نکل نکل سا⚠️ درد و کرب کا طوفاں گیا

آپؐ کا نُور مِرے دینے میں جِسم آن گیا

2

مجھ کو ہر روز ساں عید کا یادِ آپؐ آتا ہے

جب سے ہو کر میرے گھر سے میرا مہمان گیا

3

گو کسی اور کی صورت میں نہ آتے آقا

اُن کی خُوشبو سے میرا دِل اُنھیں پہچان گیا

4

چاند دو لخت ہوا اُن کا اشارہ پا کر

قوم نے بوجھل نہ مانی، یہ جہاں مان گیا

5

پھر سے شاداب و شرمدار ہوئے شاخِ شجر

جس طرف سیّد کُل، نبیوں کا سُلطان گیا

6

دِل یہ چاہتا ہے میں سُنوں اُن نبیؐ کی باتیں

جن کے ہونٹوں پر جسیں⚠️ ساغَرِ عِرفاں گیا

7

جان دی آپؐ پر ساؔجِد نے بعد شوق و نِیاز

یہ فقیر آپؐ کا تھا، آپؐ کے قُرباں گیا