ذوقِ جمال

دِل پر غم سے نکل نکل سا⚠️ درد و کرب کا طوفاں گیا

آپؐ کا نُور مِرے دینے میں جِسم آن گیا

مجھ کو ہر روز ساں عید کا یادِ آپؐ آتا ہے

جب سے ہو کر میرے گھر سے میرا مہمان گیا

گو کسی اور کی صورت میں نہ آتے آقا

اُن کی خُوشبو سے میرا دِل اُنھیں پہچان گیا

چاند دو لخت ہوا اُن کا اشارہ پا کر

قوم نے بوجھل نہ مانی، یہ جہاں مان گیا

پھر سے شاداب و شرمدار ہوئے شاخِ شجر

جس طرف سیّد کُل، نبیوں کا سُلطان گیا

دِل یہ چاہتا ہے میں سُنوں اُن نبیؐ کی باتیں

جن کے ہونٹوں پر جسیں⚠️ ساغَرِ عِرفاں گیا

جان دی آپؐ پر ساجد نے بعد شوق و نِیاز

یہ فقیر آپؐ کا تھا، آپؐ کے قُرباں گیا