شوقِ فراواں
1

تِرے ہے جہاں آپؐ کی اِک چشمِ کرم کو

اسیر ہے نامِ شہِؐ دیں دفعِ الَم کو

2

اللہ میں قُربان نصیب اُس کے ہیں عالی

پہچان گیا ذات کی جو شانِ اَتَم کو

3

یو بُہل⚠️ کو پہنچوگے سے آپؐ سے یہ جاننا ہے

روشن کیا اللہ نے جس شمعِ حرم کو

4

خالِق نے سکھایا ہے انہیؐ علمِ علمِ لدنّی⚠️

سرکارؐ پڑھاتے ہیں انہیں عرب و عجم کو

5

اَفلاک سے آتے ہیں سلامی کو فرشتے

پہنچیں وہ در بارگہِ میرِ امم کو

6

جو علم عطا آپؐ کو خالِق نے کیا ہے

اُس علم کا اِک جزو کہیں لوح و قلم کو

7

یہ نعت نگاری بھی کرم خاص ہے ساؔجِد

گو لاکھ سخنور ہوئے شہروں کے زقم⚠️ کو