شوقِ فراواں

لب ہے درکار یہ سیم و زر دُنیا ہم کو

چاہیے ماثہ⚠️ دِیدارِ نبیؐ کا ہم کو

ہم لپٹوں گا کبھی گُلشن میں بھی کبھی صَحرا میں

ڈھونڈیتا⚠️ نہیں شوقِ ہمیں تنہا ہم کو

غیر از جلوہ خَلّاق کچھ نہیں جہاں میں

جو نظر آتا ہے یہ ہے حُسنِ تماشا ہم کو

جس طرف دیکھیں انہیؐ دیکھیں مچل مچل کر

اے خُدا! کر دے عطا دیدہ دیدہ⚠️ بنا ہم کو

کون آتا ہے نظر گر نہیں آتا وہ نظر

پا گئے ہم اُسے! اے عقل! نہ بہکا ہم کو

پہلول⚠️ میں حُسن ہے اِکسیر میں جوہر جیسے

حق نظر آئے آئے شہِؐ دیں سے ہوویدا ہم کو

اس سے بڑھ کر ہمیں کیا ہو گی خُوشی اے ساجدؔ!

مل گیا آج پتا اپنے خُدا کا ہم کو