شوقِ فراواں
1

لب ہے درکار یہ سیم و زر دُنیا ہم کو

چاہیے ماثہ⚠️ دِیدارِ نبیؐ کا ہم کو

2

ہم لپٹوں گا کبھی گُلشن میں بھی کبھی صَحرا میں

ڈھونڈیتا⚠️ نہیں شوقِ ہمیں تنہا ہم کو

3

غیر از جلوہ خَلّاق کچھ نہیں جہاں میں

جو نظر آتا ہے یہ ہے حُسنِ تماشا ہم کو

4

جس طرف دیکھیں انہیؐ دیکھیں مچل مچل کر

اے خُدا! کر دے عطا دیدہ دیدہ⚠️ بنا ہم کو

5

کون آتا ہے نظر گر نہیں آتا وہ نظر

پا گئے ہم اُسے! اے عقل! نہ بہکا ہم کو

6

پہلول⚠️ میں حُسن ہے اِکسیر میں جوہر جیسے

حق نظر آئے آئے شہِؐ دیں سے ہوویدا ہم کو

7

اس سے بڑھ کر ہمیں کیا ہو گی خُوشی اے ساؔجِد!

مل گیا آج پتا اپنے خُدا کا ہم کو