شوقِ فراواں
1

ذِکرِ مولٰے کی ہو توفیق خُدایا! ہم کو

چاہیے دردِ و غم دِل کا مُداوا ہم کو

2

آشنا ہم ہوئے توحید و خم⚠️ و غم سے

خوب سمجھا وہ گئے آکھ⚠️ خلا معنا⚠️ ہم کو

3

بن کے وہ آیا ہے اللہ کا نوید رحمت

شاہِؐ لولاک کا پیغام جو پہنچا ہم کو

4

رحمتِ حق کے سے سِوا کوئی مددگار نہیں

ربِّ عالَم کے کرم پر ہے بھروسا ہم کو

5

ہم نے ہر انتّی⚠️ کو بڑھ کر کے لیے دِل سے

نظر آیا نہ کوئی اپنے سے چھوٹا ہم کو

6

اُن کی رحمت نے ہمیں ہمیشہ بچرے⚠️ سراافراز⚠️ کیا

خوں غذف⚠️ دھیر نے گوشے میں تھا پیکا⚠️ ہم کو

7

کوئی چپّی⚠️ ہی نہیں اپنی نظر میں ساؔجِد

جب سے آیا ہے نظر وہ رُخِ زیبا ہم کو