جانِ جہاں
1

ذرا بھی خوف نہیں اُس کو روزِ مَحشَر کا

ہوا غلام جو اللہ کے پَیمبر کا

2

فضائے بزم مہک اُٹھی عود و عنبر سے

ہوا جو تذکرہ اس گیسوئے معنبر⚠️ کا

3

درِ رسُول ﷺ سے ہے فیض یاب بزمِ نجوم

سحر کی روشنی پرتو ہے ذوئے اَنُور کا

4

رسُولِ پاک ﷺ کی دہلیز پر جو نصب ہوا

بڑا مَقام ہے اس خُوش نصیب پتھر کا

5

مِرے حضور سنیں گے فُغاں مِرے دِل کی

کریں گے چارہ وہی میرے دیدۂ تر کا

6

عزیز جان سے بڑھ کر ہیں اُحد کے پتھر

نہیں ہے شوق مِرے دِل میں لعل و گوہر کا

7

ہمیں حبیبِ خُدا بخشوَائیں گے ساؔجِد

ہمیں پلائیں گے وہ آب، حوضِ کوثر کا