← جانِ جہاں
ذرا بھی خوف نہیں اُس کو روزِ مَحشَر کا
ہوا غلام جو اللہ کے پَیمبر کا
فضائے بزم مہک اُٹھی عود و عنبر سے
ہوا جو تذکرہ اس گیسوئے معنبر⚠️ کا
درِ رسُول ﷺ سے ہے فیض یاب بزمِ نجوم
سحر کی روشنی پرتو ہے ذوئے اَنُور کا
رسُولِ پاک ﷺ کی دہلیز پر جو نصب ہوا
بڑا مَقام ہے اس خُوش نصیب پتھر کا
مِرے حضور سنیں گے فُغاں مِرے دِل کی
کریں گے چارہ وہی میرے دیدۂ تر کا
عزیز جان سے بڑھ کر ہیں اُحد کے پتھر
نہیں ہے شوق مِرے دِل میں لعل و گوہر کا
ہمیں حبیبِ خُدا بخشوَائیں گے ساجدؔ
ہمیں پلائیں گے وہ آب، حوضِ کوثر کا