← حرفِ نیاز
1
زہے نصیب مجھے مژدۂ سفر آئے
مِرے حضور! شبِ ہجر کی سحر آئے
2
نبیؐ کی یاد میں کیا کیا عطا ہوا دِل کو
نبیؐ کے شوق میں کیا کیا حسیں نظر آئے
3
میں کائنات کا حُسن و جمال نذر کروں
رُخِ رسولِؐ خدا گر مجھے نظر آئے
4
نِگاہِ شوق ہے سجدہ تجھے یہاں لازم
وہ دیکھ! خسر وِ عالم کے بام و دَر آئے
5
ہے پہنچا کون اُس اُمّیؐ لقب کی دانش کو
جہاں میں لاکھ خِرد مند باہنر آئے
6
نبیؐ کے جلوؤں سے روشن ہے قُدسیوں کا جہاں
نبیؐ کے جَلوے بہر انجمن نظر آئے
7
نگاہِ لطف نے ساجد حیاتِ نو بخشی
عبث علاج مرا کرنے چارہ گر آئے