← ذوقِ جمال
ذاتِ احَد کا جلوہ زیبا کہوں اُنہیں
وصف و ثَنا کے باب میں کیا کیا کہوں اُنہیں
سارے رسُولؐ آپؐ ہی سے فیضِ یاب ہیں
بے مِثل و بے نَظِیر مسیحا کہوں اُنہیں
جاناں ہیں اور عالَم ایجاد کی ہیں جاں
محرابِ جاں، نشانِ مقبلے⚠️ کہوں اُنہیں
اُن کا وجود پاک ہے نُورِ قدیم سے
میں جلوہ حقیقت علیا⚠️ کہوں اُنہیں
رہتا ہوں مست رات دِن اُن کے خِیال میں
دِلِ کا سُرور، کیفِ سراپا کہوں اُنہیں
شادابؔ و پُر بہار ہے عالَمؐ، حضورؐ سے
خالِق کے فیض و لُطف کا دریا کہوں اُنہیں
ساجدؔ انہیؐ کے ہیں کف پا کی یہ روشنی
قدیم جان و دِل کا اُجالا کہوں اُنہیں