ذوقِ جمال
1

نُور قدم کی بات تھی بزم میں یوں درآئی کیوں

جوتی⚠️ گِرہ و قدیم کی کُھل کے عنچن میں آئی کیوں

2

ہوتی ہیں لے مسافریں منزِلِ حق کی جاں سے

بُلغہ کہاں ہے خار سے، شکوہ آبلہ پائی کیوں

3

غیر از رسُولؐ، بمل کب حلقِ خَلق کی ہور رسائی

غیراز وسیلہ ذات تک خَلق کی ہور رسائی کیوں

4

خورِ حسن پر فِدا، خُلد ہے جو شِیفتہ

زلبہ⚠️ پُر ہوں کی ہو آپؐ سے آشنائی کیوں

5

جس کو خُدا نے دِل دیا کام ہے اُس کا عِشق ہو

جس کی سزا ہو عمر قید اُسے کو ملے رہائی کیوں

6

چلے کا حوصلہ نہ تھا اُس سے کوئی یہ پُوچھتے تو

شمع⚠️ کے نیر تو پہ پھر اُس پر نظرِ جمائی کیوں

7

آج ہے ساؔجِد اپنا دم قیدی دردِ غم و غم

عمر تمام جھیل میں ہم نے عبادت گنوائی کیوں