نور و سرور

چشمِ اُن کی جب مِہربان ہو گی

زِندگی خوب شادماں ہو گی

وہ جبیں عرش کا نِشاں ہو گی

اُن کا جو سنگِ آستاں ہو گی

سامنے اُن کے میری خاموشی

میرے حالات کی زُباں ہو گی

حشر کے دِن نبیؐ کی ذاتِ کریم

رحمتِ حق کی سائباں ہو گی

دیدِ ہو گی نصیبِ روضے کی

آرزو دِل کی نغمہ خواں ہو گی

حق کے ساتھ اُن کا نام ہو گا فقَط

جب فنا روَنقِ جہاں ہو گی

تاحقیقت شناس ساجد سے

اُن کی توصیف کیا بیاں ہو گی