نور و سرور

جہاں میں اُن سا کوئی صاحبِ جمال نہیں

حبیبؐ حق کی طرح کوئی باکمال نہیں

رُخِ نبیؐ کی مُفتر نہیں کوئی تشبیہ

جمالِ پاک کی شارح کوئی مِثال نہیں

میں آنحضورؐ کو نُورؐ و سرُور پیش کروں

یہ شوق خوب ہے لیکن مِری مجال نہیں

ہر ایک لمحۂ مِری زِندگی کا اُن پر فِدا

ثار شاہؐ پہ کب میرے جان و مال نہیں

ہے مصطفیٰؐ پہ عَیاں دِل کی داستاں ساری

گداگروں کو یہاں حاجتِ سوال نہیں

نِگاہِ لُطف سے مفلس کو وہ غنی کر دیں

حضورؐ کے لیے مشکل نہیں محال نہیں

جو نام لیوا ہے حق کے حبیبؐ کا ساجد

کسی طرح کا اسے غم نہیں، مَلال نہیں