← نور و سرور
1
جہاں میں اُن سا کوئی صاحبِ جمال نہیں
حبیبِؐ حق کی طرح کوئی باکمال نہیں
2
رُخِ نبیؐ کی مُفسّر نہیں کوئی تشبیہ
جمالِ پاک کی شارح کوئی مِثال نہیں
3
میں آنحضورؐ کو’’ نُور و سرُور‘‘ پیش کروں
یہ شوق خوب ہے لیکن مِری مجال نہیں
4
ہر ایک لحظہ مِری زِندگی کا اُن پر فِدا
نثار شاہؐ پہ کب میرے جان و مال نہیں
5
ہے مصطفٰےؐ پہ عَیاں دِل کی داستاں ساری
گداگروں کو یہاں حاجتِ سوال نہیں
6
نِگاہِ لُطف سے مُفلس کو وہ غنی کر دیں
حضورؐ کے لیے مُشکل نہیں مُحال نہیں
7
جو نام لیوا ہے حق کے حبیبؐ کا ساؔجِد
کسی طرح کا اسے غم نہیں، مَلال نہیں