نور و سرور
1

جو دِل سے شاہِ اُمم کا نیازمند ہُوا

وہ خُوش نصیب زمانے میں سر بُلند ہُوا

2

ہے جِسمِ پاک اگر چشمِ رُخ سے پوشیدہ

درِ وصال کہاں چشمِ دِل پہ بند ہُوا

3

ہے وہ سعید جسے راہبر حدیث ہوئی

ہے سُرخروکہ جو پابندِ حرفِ پند ہُوا

4

جہاں کے رنج و الَم سے اسے نَجات ملی

جو دِل کہ اُن کی محبت میں دردمند ہُوا

5

قدِ جمال کو سَمجھا جو حق کا آئینہ

وہ بے نِیازِ خیالاتِ بیش و چند ہُوا

6

نبیؐ کا تذکرہ جس جس لب و زُباں پر ہے

زُبان خوب لگی‘ حق کو لب پسندہُوا

7

نبیؐ کی ذاتِ کرم کا وہ بحر ہے ساؔجِد

دِل اِس میں ڈوب کے لَو لُوئے ارجمند ہُوا ؟؟؟