← نور و سرور
جو دِل سے شاہِ اُمم کا نیازمند ہُوا
وہ خُوش نصیب زمانے میں سر بُلند ہُوا
ہے جِسمِ پاک اگر چشمِ رُخ سے پوشیدہ
در وِصال کہاں چشمِ دِل پہ بند ہُوا
ہے وہ سعید جسے راہبرِ حدیث ہوئی
ہے مُرخروکہ جو پابندِ حرفِ چند ہُوا
جہاں کے رنج و الَم سے اسے نَجات ملی
جو دِل کہ اُن کی محبت میں دردمند ہُوا
قدِ جمال کو سمجھا جو حق کا آئینہ
وہ بے نِیازِ خیالاتِ بیش و چند ہُوا
نبیؐ کا تذکرہ جس لب و زُباں پر ہے
زُباں خوب لگی، حق کو لب پسند ہُوا
نبیؐ کی ذاتِ کرم کا وہ بحر ہے ساجد
دِل اِس میں ڈوب کے لَو لُوئے ارجمند ہُوا