شوقِ فراواں

انہیں ہم کیوں نبیؐ کے آستاں کے سے

مینٹر⚠️ ہیں ہمیں خُوشیاں یہاں سے

ہیں شتمِ⚠️ الرسلیں محبوبِ داوَر

نبیؐ آئے گا پھر ایسا کہاں سے

دُعا ریاحلتیں⚠️ ولے سے نبیؐ کے

بگرہِ⚠️ خلقی⚠️ نہیں شورِ فُغاں سے

نکل جائیں گی دِل کی حرتیں⚠️ سب

اگر نِسبت ہے شاہِؐ دو جہاں سے

نِگاہ دِل جمی ہے جب سے اُن پر

مِری ہے جاں آزاد اِن و آں سے

خُدا فاعل وسائل اُس کی مخلوق

عَیاں ہے یہ زمین و آسماں سے

یہ کیا اندھیر ہے ساجدؔ نجف میں

فضا آلود بارودی دُخاں سے