شوقِ فراواں
1

جو پہلوا⚠️ شیر اُس کے مجھ سے مجھ بجھری⚠️ ہے

پریشانی ہے

2

دیکھ کر جلوہِ عجب عالَم حیرانی ہے

کر گئی اُن کی نظر کیفِ سَرشار مجھے

3

اور بڑھ جاتی ہے ہر بار تمنا دِل کی

آپؐ نے گو کہ بلایا ہے کئی بار مجھے

4

اُن کی یادوں میں گزرتے ہیں خُوشی سے دِن رات

غم ستاتا ہے کوئی اور نہ آزار مجھے

5

وہ کرم مجھ پہ ہے سُلطاں کو بھی آئے

دے گیا طرفِ⚠️ طالعِ⚠️ بیدار مجھے

6

شُکر ہے شُکرِ کی توفیق خُدا نے بخشی

ان شُکر غم میں آئے ہیں آسرار مجھے

7

جیسے سوغاتِ درودوں کی نے بخشی بخشی

مجھ کو ہر شے سے ہیں افضل مِرے سرکار مجھے