شوقِ فراواں
1

حقِ کا رسُولؐ منزِل کا نِشاں رہے

دائم خُدا و خَلق کے درمیاں رہے

2

وہ اپنی زِندگی کا عجب خاص دور تھا

جو دِن نبیؐ کے شہر میں ہم سایہ⚠️ باں رہے

3

اجسامِ اڑھتے خاک کی چادر سوئے خواب

روحوں کے قافلے مگر جیمِ⚠️ روواں رہے

4

سوغاتِ بیچتے⚠️ ہیں جو اکثر درود کی

بڑی میں بھی ہو وہ حوصلے والے جواں رہے

5

نِسبت جنہیں خُدا کے نبیؐ کی ہے بخشی ہے

ہوشیار وہ ہمیشہ دمِ امتحاں رہے

6

یارب! نماز ڈانگی⚠️ دِل کو نصیب ہو

آئے گی نسمتیں⚠️ مِرا وِرد جاں رہے

7

ساؔجِد نہیں جُدا رہے آقا سے ہم کبھی

جاں اپنی اُن کے در پہ رہیں ہم جہاں رہے