شوقِ فراواں
1

اس طرف شُکرِ خُدا لُطف کے بادل کے آئے

باغ ہیں اب جو نظر کل ہمیں جنگل کے آئے

2

بزمِ نائوت⚠️ میں آئے ہیں موثرِ⚠️ آقا

پردہ بُہو⚠️ سے برو سب سے وہ اولؑ کے آئے

3

چشمِ احوال کو نظر آتی ہے اِک شکل

چشمِ خُوش میں کو نظر ایک ہی پل پل کے آئے

4

جو ابو جہل ہے اصلاً ہے ابو ذر کب

دے مزا قند کا کیوں⚠️ بن کے جو چھَل⚠️ کے آئے

5

رہے شاداب سدا باغِ محبتِ دِل کا

گنہد⚠️ سبز نظر ہم کو مُسَلسَل کے آئے

6

تلخی نزع سے جب زُباں ہو میری

آپؐ رحمتِ کی میرے ہونٹوں پہ چھاگل⚠️ کے آئے

7

ہو مزا تُجھ کو عطا مَستی حق کا ساؔجِد

باغِ جنت کا تِرے میں میں وہ پھل پل کے آئے