ذوقِ جمال
1

سیّدِ کونین کا جو حاشیہ بردار ہے

خُوب اُس کا البتر قِسِمت تحلیٰ⚠️ بار ہے

2

رات دِن آباد جس دِل میں ہے یاد مصطفٰؐے

کہنے کو دِل ہے مگر کاشانہ اَنوار ہے

3

جیچے ہیں جو تجّیاتِ⚠️ و سلام اُن کے کے حضور

اُن کی جاں مجہور⚠️ ہر دم اور دِل سَرشار ہے

4

خار ہے لیکن مِرے دِل کو ہے وہ عزیز

مرحبا، منسوب اُن کے دشت کا جو خار ہے

5

زِندگی باقی مِری گذرے نبیؐ کے شہر میں

اے خُدا! تو مِہرباں ستّار⚠️ ہے غفّار ہے

6

کیا ہی دِل افروز ہیں حصنِ حرمِ حرم کی وسعتیں

چار سُو حد نظر تک دَاسَنِ⚠️ گُلزار ہے

7

خُوب سے کیا خُوب تر ساؔجِد ہیں منظَر آنکھ میں

شُکر میرا دیدہ بخت اِن دنوں بیدار ہے