ذوقِ جمال

دِل کے لے لیے جہاں میں کتنا اِمتحان ہے

شُکرِ خُدا، پناہ جاں شاہِ عرضِ⚠️ شان ہے

نُورِ خُدا، رسُولِ حق، صاحبِ عزّ وشاں

آپؐ کی ذات پاک ہی جِسمِ جہاں کی جاں ہے

گیسوئے پاک کا جمال، سایہ خُدا کے لُطف کا

یادِ رسُولؐ، کرب⚠️ ڈھوپ⚠️ میں ہے سائباں ہے

روزنوں⚠️ کا نیات کی اُن کی رحین⚠️ لُطف ہیں

آپؐ کے دم قدم سے کیا خُسن⚠️ بھرا جہاں ہے

باتیں تمام آپؐ کی، ذاتِ خُدا کا ہے کلام

زِندگی اُن کی سرِ بہر⚠️، ذات کی تَرجُماں ہے

اُن کے کرم کے سلسلے چھائے ہیں میری روح پر

کیف و سرُور سے مجری⚠️ دِل کی یہ داستاں ہے

ساجدؔ نعت گو کرے کیسے بیاں وصفِ پاک

گئے جُو سے لامَکاں اور اِس کی شاں ہے