شوقِ فراواں

یہ دوش یہ سر خِدمت سلطاؐں کے لئے

یہ دِل یہ جگر سید⚠️ ذی شان کے لئے

جس قلب کی قِسِمت میں نبیؐ کی ہے محبت

وہ قلب کہاں حَسرت و حرمان کے لئے

اُس رنخ⚠️ کی زیارت کے لئے ظرف ہے دربار

ہر آنکھ کہاں اُس کی چشنتاں⚠️ کے لئے

کافی ہے ہمارے لئے ہلکی سی تَوَجُّہ

وہ خاص نظر بودر⚠️ و سلماؐں کے لئے

کام آئے گا یہ ذِکر نبیؐ روز قِیامت

یہ نام عِلاج غم دوراں کے لئے

یہ مست جنوں بزم جنوں کے نہیں قابل

یہ آہوئے آوارہ⚠️ بِیاباں کے لئے

اس ست قدم رنجہ وہ فرمائیں گے ساجدؔ

یہ خانہ کبھی کا اسی مہماں کے لئے