نور و سرور
1

موج ساحل بن گئی اور دردِ دَرماں ہو گیا

اُن کے فیضانِ نظر سے کام آساں ہو گیا

2

وہ انیسِ قلب و جاں ‘ ہر اُمّتی پر مِہرباں

جِس نے مانگا دِل کا پُورا اِس کے ارماں ہو گیا

3

ان کی تاثیرِ نظر سے سنگ گوہر ہو گئے

غُرفہِ تاریک بھی روشن شبِستاں ہو گیا

4

جِس کو چاہا اِک گھڑی میں وہ ہُوا صاحب نظر

جِس کو دیکھا اِک نظر وہ مستِ عِرفاں ہو گیا

5

ہو گئی آباد بزمِ دِل بفیضِ مصطفٰیؐ

تار و پُودِ وہم سب دُودِ پریشاں ہو گیا

6

ہر دِلِ حَسرت زدہ کو مل گیا گنجِ مراد

سوختہ جانوں کی بیماری کا دَرماں ہو گیا

7

شُکر ساؔجِد اِس کرم کا میں کروں کیسے ادا

مجھ سا نالائق بھی اُن کا زمزمہ خواں ہو گیا