نور و سرور

نُور اللہ کا جلوتِ اُن کی

حق کی اِمداد اعانت اُن کی

کوئی دمساز نہ مُونِس ہو گا

کام آئے گی شفاعت اُن کی

زِیست کا اپنی یہی حاصل ہے

پِیرَوی اُن کی اِطاعَت اُن کی

حرمِ حق میں وہ آباد ہُوا

ہے میسّر جسے قربت اُن کی

ذرہ ذرہ ہے کرم سے سیراب

وہ سَمُندر ہے سخاوت اُن کی

ہے تبسم ہی تبسم وہ مزاج

پیار ہی پیار طبیعت اُن کی

اُن کی باتیں ہیں ریلی ساجد

اور ہی کچھ ہے حلاوت اُن کی