← حرفِ نیاز
محبت کا مزا آئے خُدایا!
دیارِ مصطفیٰ آئے خُدایا!
بہت بے چین اب قلبِ حَزیں ہے
نظر وہ دلربا آئے خُدایا!
تمنا جس کی میری زِندگی ہے
ہے دِل جس پر فِدا آئے خُدایا!
نِہاں قرآں کی جو آیات میں ہے
وہ جلوہ برملا آئے خُدایا!
ملے گا کب مجھے اذنِ حضوری
پَیامِ جاں فِزا آئے خُدایا!
ہے جس کی یاد ساجدؔ جانِ میری
نظر وہ خُوش لقا آئے خُدایا!